new urdu ghazal very emotional poetry by paaris rajpoot

پیشگی معذرت کہ وزن وبحر اورشاعری کےدیگرملحوظات سےنابلدٹھہرا،اسکے باوجوداپنی اولین کاوش احباب کی نظر کہ دادوستائش اورتنقیدوتعریف سےرہنمائی مل سکے۔

 

تختِ دل پہ کسی کوبٹھایانہ گیا
تیرےبعد تیرانقش مٹایانہ گیا

بےبسی نےمظلوم کی آوازچھین لی
ظلم سہہ لیااس نے،چِلّایانہ گیا

غربت نےبچےکےخواب چھین لئے
چندسکوں کی بھیک پہ مسکرایانہ گیا

ظلم دیکھ کےآنکھیں پتھرہوگئیں
لفظوں میں پھروہ دردسمایانہ گیا

عزت لٹ گئی سرِ بازارجس کی
گھرلٹنےپہ پھر شورمچایانہ گیا

موقع برمحل جو کچھ نہ کرسکے
بوجھ دل سےکبھی پھرہٹایانہ گیا

اپنوں کی بھیڑمیں گم ہوگئے
فانوسِ دل سےمگروہ پرایانہ گیا

چپ سادھ لی اورلب سی لئے
قصۂ لاچارسب کوسنایانہ گیا

بات آئی جب ظلم پہ آواز کی
نہاں سچ پھرمجھ سےچھپایانہ گیا

خاکِ دشت چھانی اسی کی خاطر
پھربھی وہ ہم سےمنایانہ گیا

دیکھ کےاسےمحفلِ اغیارمیں
تشفئ یاراں سےدل کوبہلایانہ گیا

تقسیمِ ورثہ پہ سب راضی تھےمگر
بوڑھے باپ کاخرچہ اٹھایانہ گیا

تیری آمدپہ میں آنکھیں نچھاورکروں
غریب خانہ توشایانِ شان سجایانہ گیا

مان ٹوٹاجوپارس تو کیاکیجئے
پھرسرِراہ خودکوبچھایانہ گیا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *